لکھنؤ، 8/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) اتر پردیش کے ہاتھرس میں ستسنگ کے بعد بھگدڑ میں 121 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد سے پولیس نے اس ستسنگ کے منتظم سمیت بابا سے جڑے کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم بابا سورج پال ابھی تک مفرور ہے۔ دوسری جانب بابا کے وکیل اے پی سنگھ نے الگ نظریہ پیش کیا ہے۔ اے پی سنگھ نے بتایا کہ زہریلے اسپرے کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں دقت ہوئی اور اس کی وجہ سے بھگدڑ مچنے سے کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔
ہاتھرس واقعہ کے بعد سے اے پی سنگھ بابا سورج پال کے دفاع میں بیانات دے رہے ہیں اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بابا اور ان کے ستسنگ کو ایک سازش کے تحت بدنام کیا جا رہا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وکیل اے پی سنگھ نے الزام لگایا کہ بابا کی مقبولیت بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے یہ واقعہ سازش رچایا گیا۔
ایڈوکیٹ اے پی سنگھ نے بتایا کہ 2 جولائی کو ہاتھرس میں ایک ستسنگ میں کچھ لوگوں نے بھیڑ میں زہریلی چیز والا ڈبہ کھولا تھا جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔ ایڈوکیٹ اے پی سنگھ نے الزام لگایا کہ 10-12 لوگ زہریلا اسپرے لے کر آئے تھے اور وہ اسپرے چھڑک کر بھاگ گئے جو پہلے سے منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا۔ اے پی سنگھ نے الزام لگایا کہ یہ تمام لوگ فوراً کار سے بھاگ گئے۔
بابا سورج پال کے وکیل نے اس معاملے کی جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی ٹیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے اور پتہ لگایا جائے کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس زہریلے اسپرے کو چھڑکایا۔ اے پی سنگھ نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو واقعہ سے پہلے اور بعد کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو قبضے میں لینا چاہئے کیونکہ اس کے بعد ہی سازش کرنے والوں کی اصل شناخت سامنے آئے گی۔ اے پی سنگھ نے اسے حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بند قتل کا معاملہ قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2 جولائی کو ہاتھرس میں بھگدڑ کے اس واقعہ میں 121 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ یوپی حکومت نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ ستسنگ کے منتظم دیو پرکاش مدھوکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مدھوکر واقعہ کا مرکزی ملزم ہے۔ اس کے علاوہ 6 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔